عالم اسلام کا عظیم محسن

بیسویں صدی آج جب کہ اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے اور یہ کائنات اکیسویں صدی کے در پر دستکیں دے رہی ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ گذشتہ صدی میں ہم نے کیا کھویا ہے اور اکیسویں صدی میں ہم نے کیا پاناہے۔ اور یہی زندہ قوموں کا شیوا بھی ہوتا ہے۔اور لائحہ عمل بھی کہ وہ اپنے ماضی سے نہ صرف سبق سیکھتی ہیں بلکہ اپنے حال کو سنوارتیں اور مستقبل کو توبناک کرتی ہیں۔ہر گذشتہ صدی نہ تو پچھتاوں کی صدی ہوتی ہے اور نہ آنے والی صدی خوش آئندہ خوابوں کی صدی ہوتی ہےالبتہ ان سب انحصار ہمارے اپنے طرز عمل اور فکر پر ہوتا ہے کہ ہم اسے کس طرح لیتے ہیں۔ اکیسویں صدی کے بارے میں بشارتیں دینامیرا نصب نہیں اور نہ ہی بیتی صدی کا تجزیہ کرنا اس وقت میرے دائرہ کار میں ہے تاہم میرے لیے یہ بات مسرتوں کے گلاب کھلاتی اور کامیابیوں اور کامرانیوں کو عملی شکل دکھاتی ہے کہ بیسویں صدی نے جاتے جاتے ہمیں دنیا بھر کی ایٹمی قوتوں صف میں لا کھڑا کیااور ہم تفاخرسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے بیسویں صدی میں ایک عظیم معرکہ سر کیاہے اور اکیسویں صدی کے لیے اپنی پوری قوم ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کو ایک نیا اور روشن منشور دیا ہے۔ اور یہ منشور ہماری بقا اور سلامتی کا نہ صرف ضامن ہے بلکہ ہمیں زندہ اور پائندہ رکھنے کی بھر پور علامت بھی ہے۔اور بے پناہ استعارہ بھی۔اس ساری تگ ودو اور کوشش و کاوش کا سہرا ایک شخصیت کے سر ہے جس نے ہمہیں سر اونچا کرکے کھڑے ہونےاور پوری دنیا کو آنکھیں کا موقع فراہم کیا۔ وہ شخصیت یقینی طور پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ہے۔جو عظیم سائنسدان بھی ہیں اور عظیم انسان بھی اور پھر سب سے بڑھ کر محسن پاکستان ہی نہیں محسن اسلام بھی ہیں۔

زندہ شخصیت پر قلم اٹھانامیرے نزدیک پل صراط پر چلنے کے مترادف ہے اسلئے کہ زندہ شخصیت خواہ کتنی ہی عظیم اور کتنی بڑی   محسن   اعظم ہی کیوں نہ ہو متنازعٰ ضرور ہوتی ہےالبتہ اس میں استشنا بھی ہوسکتاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.